الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ تَحْرِيمِ النَّظْرِ إِلَى الْمَرْأَةِ الْأَجْنَبِيَّةِ لِأَنَّهُ مِنْ مُقَدِّمَاتِ الزنا باب: اجنبی عورت کو دیکھنے کے حرام ہونے کا بیان، کیونکہیہ زنا کے مقدمات میں سے ہے
حدیث نمبر: 6656
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ الْأُولَى لَكَ وَلَيْسَ لَكَ الْأَخِيرَةُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: نظر کے پیچھے نظر نہ لگانا، پہلی نظر تو معاف ہے، جبکہ دوسری کی تجھے اجازت نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … پہلی نظر سے مراد بلا ارادہ پڑ جانے والی نظر ہے، اگر آدمی ان احادیث پر عمل کرتے ہوئے غیر محرم خاتون پر پڑنے والی نظر کو فوراً پھیر لے تو اس خاتون کی شکل دماغ میں محفوظ نہیں ہو سکتی، جبکہ اس عمل کی وجہ سے وجود میں برکت آ جاتی ہے، اس طرح سے آدمی گندے خیالات سے مکمل طور پر بچ جاتا ہے۔