الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي وَلَدِ الزَّنَا باب: زنا کی اولاد کا حکم
حدیث نمبر: 6655
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین کا نافرمان اور ہمیشہ کا شرابی اور احسان جتانے والا اورولد الزنا جنت میں داخل نہ ہوں گے۔
وضاحت:
فوائد: … کوئی شک نہیں کہ ولد الزنا اپنا سبب بننے والے دو افراد کی برائی کا ذمہ دار نہیں ہے، نہ اس کو اس چیز کا طعنہ دیا جا سکتاہے، لیکن دیکھایہ گیا ہے کہ ایسے بچے معاشرے کے قیمتی افراد نہیں بنتے، ان کا رجحان گھٹیا افراد کی طرف ہوتا ہے۔