حدیث نمبر: 6652
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ قُلْنَا وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جن عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں، ان پر داخل نہ ہوا کرو، کیونکہ شیطان تمہارے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے شیطان کا تعلق آپ سے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی، پس وہ میرا مطیع ہو گیا۔

وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم (۲۱۷۱) میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((أَلَاَ لَایَبِیِْتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ اِمْرَأَۃٍ ثَیِّبٍ، اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ نَاکِحًا اَوْ ذَا مَحْرَمٍ۔)) … ’’خبردار کوئی آدمی کسی بیوہ عورت کے پاس رات نہ گزارے، الایہ کہ وہ اس کا خاوند ہو یا محرم رشتہ دار۔‘‘
کنواری اور غیر شادی شدہ عورتوں کی بہ نسبت شادی شدہ خواتین کے لیے برائی پر آمادہ ہو جانا قدرے آسان ہوتا ہے، ان میں غیرت کے تقاضوں کے معاملے نرمی آ جاتی ہے، جبکہ عیب کے چھپ جانے کا بھی امکان ہوتا ہے، بیوہ کا معاملہ بھی اسی قسم کا ہوتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر ان خواتین کے ساتھ بیٹھنےیا ان کے ساتھ رات گزارنے سے منع کیا، وگرنہ کسی غیر محرم خاتون کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا ہی منع ہے، رات گزارنا تو درکنار۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6652
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ھذه ثلاثة احاديث، وھي صحيحة، لكن جمعھا مجالد في ھذا المتن الواحد، واسناد ھذا الحديث ضعيف لضعف مجالد بن سعيد۔ أخرجه الترمذي: 1172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14375»