الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
باب ماجاء في النفير مِنَ الزَّنَا وَوَعِيدِ فَاعِلِهِ لا سِيَمَا بِحَلِيلَةِ الْجَارِ وَالْمُغِيبة باب: زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور¤اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا قَالُوا حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَةٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ قَالَ فَمَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ قَالُوا حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ حَرَامٌ قَالَ لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ۔ سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا : تم لوگ زنا کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یہ قیامت کے دن تک حرام ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس عورتوں سے زنا کرنا، اس کا جرم ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنے کے جرم سے کم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم لوگ چوری کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے، پس یہ حرام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس گھروں سے چوری کرنا، اس کا جرم پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے کے جرم سے کم ہے۔