الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
باب ماجاء في النفير مِنَ الزَّنَا وَوَعِيدِ فَاعِلِهِ لا سِيَمَا بِحَلِيلَةِ الْجَارِ وَالْمُغِيبة باب: زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور¤اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
حدیث نمبر: 6649
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَفْشُ فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَإِذَا فَشَا فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَيُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک بھلائی پر رہے گی، جب تک ان میں زنا کی اولاد کی کثرت نہ ہوگی، جب ان میں ولد الزنا کی کثرت ہو جائے گی تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کر دے۔
وضاحت:
فوائد: … ولد الزنا کی کثرت کا مطلب ہے کہ زنا عام ہو جائے، جس سے ناجائز بچے جنم لیں گے اور حسب و نسب کا نظام خراب ہو جائے گا۔
اگرچہ دورِ حاضر کے لوگوں میں بڑی بڑی اور کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں، لیکن منصوبہ بندی کے اسباب اور الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا کی وجہ سے جو بے غیرتی زنا اور اس سے متعلقہ گناہوں کی وجہ سے پھیلی ہے، اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی، غیرت و حمیت کی وجہ سے جن افراد اور خاندانوں کے بارے میں اس برائی کا سوچا ہی نہیں جا سکتا تھا، ان کے وڈیرے زنا کی دلدل میں پھنس گئے اور ان کی بیویوں اور بچیوں نے اپنے لیے کرائے پر سانڈ لیے رکھے ہیں، ایسے خاندانوں کے پچاس ساٹھ ساٹھ برس عمر کے لوگوں کی نگاہیں تو شرم و حیا کا پیکر ہونی چاہیے تھیں، لیکن اب وہ چور نگاہوں سے اور ٹکٹکی باندھ کر ایسی بے پردہ لڑکیوں کو دیکھتے نظر آتے ہیں، جو ان کی بچیوں کی ہم عمر یا ان سے چھوٹی ہوتی ہیں۔ (اللہ کی پناہ) کیا کوئی چھٹی حس میں جا کر سوچ سکتا ہے کہ مائیں اپنی بچیوں کی عزتیں لٹانے کے لیے ڈیلکریں گی؟ کیا کسی میںیہ چیز برداشت کرنے کی ہمت ہے کہ بچیاں پابندی لگانے والے باپ کے سامنے واقعی ننگا ہو کر یہ کہیں گی کہ پھر تم خود ہماری ضرورت پوری کرو، نہیں تو ہمیں باہر جانے دو، کیا کسی کے دماغ میںیہ بات سما لینے کی
گنجائش ہے کہ خاوند کمائی کرنے کے لیے دوسرے ممالک میں چلے جائیںاور ان کی بیویاں ان کی ہی آمدنیاں خرچ کر کے کرائے پر سانڈ رکھ لیں۔ جبکہ ایسا ہو رہا ہے اور ہر ملک کے ہر شہر میں ہو رہا ہے۔ لوگو! آؤ، شریعت ِ مطہرہ کو تھام لیں، اسی میں ہماری عزتوں کا دفاع ہے، یہی حمیت و غیرت والی زندگی کا دوسرا نام ہے۔
اگرچہ دورِ حاضر کے لوگوں میں بڑی بڑی اور کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں، لیکن منصوبہ بندی کے اسباب اور الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا کی وجہ سے جو بے غیرتی زنا اور اس سے متعلقہ گناہوں کی وجہ سے پھیلی ہے، اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی، غیرت و حمیت کی وجہ سے جن افراد اور خاندانوں کے بارے میں اس برائی کا سوچا ہی نہیں جا سکتا تھا، ان کے وڈیرے زنا کی دلدل میں پھنس گئے اور ان کی بیویوں اور بچیوں نے اپنے لیے کرائے پر سانڈ لیے رکھے ہیں، ایسے خاندانوں کے پچاس ساٹھ ساٹھ برس عمر کے لوگوں کی نگاہیں تو شرم و حیا کا پیکر ہونی چاہیے تھیں، لیکن اب وہ چور نگاہوں سے اور ٹکٹکی باندھ کر ایسی بے پردہ لڑکیوں کو دیکھتے نظر آتے ہیں، جو ان کی بچیوں کی ہم عمر یا ان سے چھوٹی ہوتی ہیں۔ (اللہ کی پناہ) کیا کوئی چھٹی حس میں جا کر سوچ سکتا ہے کہ مائیں اپنی بچیوں کی عزتیں لٹانے کے لیے ڈیلکریں گی؟ کیا کسی میںیہ چیز برداشت کرنے کی ہمت ہے کہ بچیاں پابندی لگانے والے باپ کے سامنے واقعی ننگا ہو کر یہ کہیں گی کہ پھر تم خود ہماری ضرورت پوری کرو، نہیں تو ہمیں باہر جانے دو، کیا کسی کے دماغ میںیہ بات سما لینے کی
گنجائش ہے کہ خاوند کمائی کرنے کے لیے دوسرے ممالک میں چلے جائیںاور ان کی بیویاں ان کی ہی آمدنیاں خرچ کر کے کرائے پر سانڈ رکھ لیں۔ جبکہ ایسا ہو رہا ہے اور ہر ملک کے ہر شہر میں ہو رہا ہے۔ لوگو! آؤ، شریعت ِ مطہرہ کو تھام لیں، اسی میں ہماری عزتوں کا دفاع ہے، یہی حمیت و غیرت والی زندگی کا دوسرا نام ہے۔