الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
باب ماجاء في النفير مِنَ الزَّنَا وَوَعِيدِ فَاعِلِهِ لا سِيَمَا بِحَلِيلَةِ الْجَارِ وَالْمُغِيبة باب: زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور¤اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
حدیث نمبر: 6644
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زانی جس وقت زنا کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا، چورجب چوری کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور شرابی جس وقت شراب پیتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور (ان جرائم کے بعد بھی) توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں زانی، چور اور شرابی کی سخت سرزنش کی گئی ہے۔
’’وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا‘‘ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ امور ایمان کے منافی ہیں، ایمان ان سے روکتا ہے، جب کوئی شخص ان برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ ایمان کے تقاضے پر عمل نہیں کر رہاہوتا، اس معنی میں گویا کہ وہ مؤمن نہیں ہوتا، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیںہے کہ وہ کلی طور پر ایمان سے خارج ہو جاتا ہے اور کافر بن جاتا ہے، کیونکہ اہل سنت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی گناہ، خواہ وہ کبیرہ ہی ہو، کے ارتکاب سے مسلمان کافر نہیں بنتا، یہ اصول بہت سی آیات و احادیث سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ لیکن اس اصول کا مطلب ایسے مجرموں سے نرمی برتنا نہیں ہے، بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوئے اور ابدی طور پر جہنم کے مستحق نہیں ہیں۔
’’وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا‘‘ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ امور ایمان کے منافی ہیں، ایمان ان سے روکتا ہے، جب کوئی شخص ان برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ ایمان کے تقاضے پر عمل نہیں کر رہاہوتا، اس معنی میں گویا کہ وہ مؤمن نہیں ہوتا، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیںہے کہ وہ کلی طور پر ایمان سے خارج ہو جاتا ہے اور کافر بن جاتا ہے، کیونکہ اہل سنت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی گناہ، خواہ وہ کبیرہ ہی ہو، کے ارتکاب سے مسلمان کافر نہیں بنتا، یہ اصول بہت سی آیات و احادیث سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ لیکن اس اصول کا مطلب ایسے مجرموں سے نرمی برتنا نہیں ہے، بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوئے اور ابدی طور پر جہنم کے مستحق نہیں ہیں۔