الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ حَدٍ مَنِ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ وَمَا جَاءَ فِي الزَّنَادِقَةِ باب: اسلام سے مرتد ہونے والے کی حد اور زنادقہ کا بیان
عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِقَوْمٍ مِنْ هَؤُلَاءِ الزَّنَادِقَةِ وَمَعَهُمْ كُتُبٌ فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ ثُمَّ أَحْرَقَهُمْ وَكُتُبَهُمْ قَالَ عِكْرِمَةُ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس زندیق لوگوں کو لایا گیا، ان کے پاس ان کی کتابیں بھی تھیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پہلے آگ جلانے کا حکم دیا، پس آگ بھڑ کائی گئی، پھر انھوں نے انہیں اور ان کی کتابوں کو جلا دیا، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلانے سے منع فرمایا ہے، البتہ میں ان کو قتل کر دیتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنا دین تبدیل کرے اسے قتل کر دو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دیا کرو۔