حدیث نمبر: 6640
عَنْ دُخَيْنٍ كَاتِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعُقْبَةَ إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ فَيَأْخُذُوهُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ قَالَ فَفَعَلَ فَلَمْ يَنْتَهُوا قَالَ فَجَاءَهُ دُخَيْنٌ فَقَالَ إِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ فَقَالَ عُقْبَةُ وَيْحَكَ لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُؤْمِنٍ فَكَأَنَّمَا اسْتَحْيَا مَوْؤُودَةً مِنْ قَبْرِهَا وَفِي لَفْظٍ كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْؤُودَةً مِنْ قَبْرِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے منشی دُخَین سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نے عقبہ رضی اللہ عنہ سے کہا:ہمارے کچھ پڑوسی ہیں،وہ شراب نوشی کرتے ہیں، میں پولیس کو اطلاع کرنے والا ہوں تاکہ وہ انہیں گرفتار کر لے۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو، انہیں نصیحت کرو اور ڈانٹ ڈپٹ کرو، اس نے ایسے ہی کیا مگر وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ آ گیا اور کہا: میں نے انہیں روکا تو ہے، مگر وہ باز نہیں آتے، اب تو میں پولیس کو ضرور بلاؤں گا، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: او تیرے لیے ہلاکت ہو، اس طرح نہ کر، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مؤمن کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے، وہ گویا کہ قبر میں زندہ درگور بچی کو زندہ کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس شخص کی مانند ہے، جوقبر میں زندہ درگور کی گئی بچی کو زندہ کر دیتا ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6640
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لاضطراب في اسناده، ولجھالة ابي الھيثم۔ أخرجه ابوداود: 4892 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17530»