الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ اسْتِحْبَابِ السَّشْرِ عَلَى مَنِ ارْتَكَبَ مَا يُوجِبُ الْحَدَّ قَبْلَ تَبْلِيغِهِ الْإِمَامَ باب: حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص¤پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ وَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ كَرِهْتَ قَطْعَهُ قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي لَا تَكُونُوا عَوْنًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ إِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ أَنْ يُقِيمَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور 22]۔ ابو ماجدسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: مجھے وہ پہلا آدمی یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس کا ہاتھ کاٹا تھا، ایک چور کو لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، لیکن اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیاتھا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ہاتھ کے کٹنے کو ناپسند کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کون سی چیز مجھے اس سے روک سکتی ہے، تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، امام کے لئے یہی زیب دیتا ہے کہ جب اس تک حد کا معاملہ پہنچے تو وہ اسے قائم کر دے، بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند کرتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا بہت مہربان ہے۔