الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ اسْتِحْبَابِ السَّشْرِ عَلَى مَنِ ارْتَكَبَ مَا يُوجِبُ الْحَدَّ قَبْلَ تَبْلِيغِهِ الْإِمَامَ باب: حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص¤پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
عَنْ أَبِي مَاجِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ بِابْنِ أَخٍ لَهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا ابْنَ أَخِي وَقَدْ شَرِبَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ امْرَأَةٌ سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا فَتَغَيَّرَ لِذَلِكَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور 22]۔ ابو ماجد کہتے ہیں:ایک آدمی اپنے بھتیجے کو لے کر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے، اس نے شراب پی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ اسلام میں سب سے پہلی حد اس عورت پر لگائی گئی تھی جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔