الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ مَنْ لا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ وَمَا جَاءَ فِي دَرْء الحدود بالشُّبُهَاتِ باب: ان افراد کا بیان جن پر حد واجب نہیں ہوتی، نیز شبہات کی بنا پر حدود نہ لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 6636
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک عورت سے زنا بالجبر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے حد روک لی اور جس مرد نے یہ برائی کی تھی، اس پر حد قائم کی، راوی نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اس خاتون کے لیے مہر مقرر کیا تھا یا نہیں۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ قانون شرعی ہے اور دوسری نصوص سے ثابت ہے کہ جس مرد و زن کو گناہ والے کسی کام پر مجبور کر دیا جائے، اس کو نہ اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ گنہگار ہو گا۔