حدیث نمبر: 6635
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَتِ امْرَأَةٌ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا بِثِيَابِهِ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا وَذَهَبَ وَانْتَهَى إِلَيْهَا رَجُلٌ فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَذَهَبَ الرَّجُلُ فِي طَلَبِهِ فَجَاءُوا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَهَبَ فِي طَلَبِ الرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا فَذَهَبُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هُوَ هَذَا فَلَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ بِرَجْمِهِ قَالَ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا هُوَ فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرْجُمُهُ فَقَالَ لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نماز کی ادائیگی کے لئے گھر سے باہر نکلی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا، اس نے اپنے کپڑوں سے اس کو ڈھانپ لیا اور اپنی حاجت پوری کر لی اور فرار ہو گیا،اس عورت کے پاس ایک آدمی پہنچا، اس عورت نے اس سے کہا: فلاں آدمی نے مجھ سے برائی کی ہے، وہ آدمی اس کی تلاش میں گیا اورلوگ اس کو پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے، اس عورت نے بھی (غلطی سے) کہہ دیا کہ وہ یہی ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو وہ آدمی، جس نے واقعی اس عور ت سے برائی کی تھی، کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!اس سے برائی کرنے والا میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تو چلی جا، اللہ تعالیٰ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے حق میں اچھے کلمات ارشاد فرمائے، آپ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کو رجم کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اس کی توبہ کو مدینہ والوں پر تقسیم کیا جائے تو ان سے بھی قبول کرلی جائے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6635
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سماك بن حرب تفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، ثم انه قد اضطرب في متنه۔ أخرجه ابوداود: 4379، والترمذي: 1454 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27782»