الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ عَدْمٍ قُبُولِ الْفِدْيَةِ فِي الْحُدُودِ أَنَّهُ مُكَفِّرٌ بِالذَّنْبِ باب: اس چیز کا بیان کہ حدود میں فدیہ قبول نہ کرنے کا عمل گناہوں کا کفارہ بنتا ہے
حدیث نمبر: 6633
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَذْنَبَ فِي الدُّنْيَا ذَنْبًا فَعُوقِبَ بِهِ فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثْنِيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور پھر اسے یہیں اس کی سزا دی گئی تو اللہ تعالی اس سے زیادہ انصاف والا ہے کہ وہ ایسے بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی اور اس کو معاف کر دیا تو وہ اس سے زیادہ فضل و کرم والا ہے کہ وہ اس گناہ پر گرفت کرے، جس کو وہ معاف کر چکا ہو۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حد سے متعلقہ جرم معاف ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً حدود کے نفاذ کے بعض مواقع پر بھی بخشش کی نویدیں سنائی ہیں۔ اور کوئی مجرم حد سے بچ جاتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے سپرد ہے، اگر اس نے چاہا تو اس کو معاف کر دے گا اور چاہا تو عذاب دے گا، آخری حدیث میں دنیا میں گناہ کی پردہ پوشی کا اللہ تعالی کا جو قانون بیان کیا گیا ہے، یہ قانون ہر جرم کے بارے میں علی الاطلاق نہیں ہے کہ دنیا میں جس مجرم کی پردہ پوشی کی گئی، اس کو آخرت میں بخش دیا جائے، بلکہ اس خاص آدمی کے حق میں کہ جس کی اللہ تعالی نے دنیا میں پردہ پوشی کی اور اس کو بخش بھی دیا تو قیامت کے دن اس کے اس جرم کی سزا نہیں دی جائے گی۔ دوسری کئی نصوص سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کسی مجرم کے گناہ پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہیہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ شخص یہسمجھے کہ اس کا گناہ تو معاف کیا جا چکا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کو بخش دے اور اس چیز کا امکان بھی ہے کہ اس سے اس کے گناہ کا انتقام لیا جائے، مؤخر الذکر بات مؤمن کو ستاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ نیکیاں کرنے اور توبہ تائب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔