حدیث نمبر: 6630
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ أَنَّ خَالَتَهُ أُخْتَ مَسْعُودِ بْنِ الْعَجْمَاءِ حَدَّثَتْهُ أَنَّ أَبَاهَا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ قَطِيفَةً نَفْدِيهَا يَعْنِي بِأَرْبَعِينَ أُوقِيَّةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ تُطَهَّرَ خَيْرٌ لَهَا فَأَمَرَ بِهَا فَقُطِعَتْ يَدُهَا وَهِيَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَسَدِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ محمد بن یزید بیان کرتے ہیں کہ ان کی خالہ کے باپ سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: چادر چوری کرنے والی مخزوم قبیلے کی عورت کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: میں اس کے فدیہ کے طور پر چالیس اوقیہ دیتا ہوں، اس کے عوض اسے چھوڑ دیاجائے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس کو پاک کر دیا جائے تو یہی اس کے لئے بہتر ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا اوراس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا،یہ عورت بنو عبد الاسد سے تھی۔

وضاحت:
فوائد: … پچھلے باب کے مضمون سے ثابت ہوا کہ جب کوئی معاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچ جائے تو حد کے نفاذ سے بچنے کے لیے سفارش کرنا کروانا اور فدیے اور رشوتیں دینا حرام ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6630
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ابن اسحاق مدلس وقد عنعن۔ أخرجه ابن ماجه: 2548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23875»