الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ الْحَثِ عَلَى إِقَامَةِ الْحَدِ وَالنَّهْي عَنِ الشَّفَاعَةِ فِيهِ إِذَا بَلَغَ الْإِمَامَ باب: حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی¤کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6629
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقِيلُوا ذَوِي الْهَيْئَاتِ عَثَرَاتِهِمْ إِلَّا الْحُدُودَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صاحبِ حیثیت لوگوں کی غلطیاں معاف کر دیا کرو، مگریہ کہ وہ حدود ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … دنیا کا ہر وہ معاشرہ جس کو تہذیب و شائستگی سے ادنی سا تعلق بھی رہا ہو، اپنے اندر موجود باوقار، شریف النفس اور رذائل سے دور رہنے والے افراد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور ان کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں اور فرو گذاشتوں کو نظر انداز کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیونکہ شریعت کا مقصد تربیت کرنا ہے، تربیت کے لیے ضروری نہیں کہ زجر و توبیخ سے ہی کام لیا جائے یا تعزیر ہی لگائی جائے، کیونکہ بعض صاحب ِ حیثیت لوگوں کو شرم دلانے کے لیے اور آئندہ ایسے جرائم سے محفوظ کرنے کے لیےیہی کافی ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان کا پول کھل جائے، جبکہ عام لوگوں کو سمجھانے کے لیےیہ کلیہ کافی نہیں ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں اسی اخلاقی خوبی کو سراہنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، ہاں اگر جرم کی نوعیت حدود اللہ کی پامالی تک جا پہنچتی ہے تو پھر قانون مساوات سب کے لیے ہے۔