حدیث نمبر: 6628
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى خَمِيصَةٍ لِي فَسُرِقَتْ فَأَخَذْنَا السَّارِقَ فَرَفَعْنَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي خَمِيصَةٍ ثَمَنُهَا ثَلَاثُونَ دِرْهَمًا أَنَا أَهَبُهَا لَهُ أَوْ أَبِيعُهَا لَهُ قَالَ فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں مسجد میں اپنی چادر پر سویا ہوا تھا،کسی نے اس کو چوری کر لیا اور ہم نے چور پکڑ لیا اور اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس چادر کے عوض اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، جس کی قیمت صرف تیس درہم ہے؟ میں یہ چادر اس آدمی کو ہبہ کرتا ہوں یا بیچ دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لانے سے پہلے اس طرح کیوں نہیں کیا۔

وضاحت:
فوائد: … آخری حدیث سے معلوم ہوا کہ حاکم تک معاملہ پہنچنے سے پہلے رعایا کو حدود والے معاملات کو معاف کردینے کا حق حاصل ہے، لیکن اگر حد والا معاملہ حاکم کے پاس پہنچ گیا تو اس کو معاف کرنے کا حق نہیں ہو گا، اگرچہ حقدار معافی کا اعلان کرتا پھرے۔ جب ایک آدمی کسی مسلمان کو قتل کر دیتا ہے تو اس سے ایک جان تو ضائع ہو ہی جاتا ہے، جب لواحقین کو قصاص لینے کا حق دیا جاتا ہے اور وہ یہ حق استعمال کرتے ہیں تو اس سے دوسری جان بھی ضائع ہو جاتی ہے، لیکن اللہ تعالی اس ضیاع کے بارے میں فرماتے ہیں: {وَلَکُمْ فِی الْقَصَاصِ حَیٰوۃٌیٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} … ’’عقلمندو! قصاص میں تمہارے لیے زندگی ہے اس کے باعث تم (ناحق قتل سے) رکو گے۔‘‘ (سورۂ بقرہ: ۱۷۹)
جب قاتل کو یہ خوف ہو گا کہ میں بھی قصاص میں قتل کر دیا جاؤں گا تو پھر اسے کسی کو قتل کرنے کی جرأت نہیں ہو گی اور جس معاشرے میںیہ قانون قصاص نافذ ہو جاتا ہے، وہاں یہ خوف معاشرے کو قتل و خرنریزی سے محفوظ رکھتا ہے، جس سے معاشرے میں نہایت امن اور سکون رہتا ہے، عرب کے جس معاشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تہذیب کو جنم دیا تھا، وہ معاشرہ قتل و خونریزی میں اپنی مثال آپ تھا، جب ایک لڑائی چھڑ جاتی تو وہ سینکڑوں برسوں تک ختم ہونے کا نام نہیں لیتی تھی، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ مدینہ منورہ دس سالہ تہذیب میں کتنے قتل ہوئے اور پھر ان کی وجہ سے کتنا شرّ پھیلا؟ موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
دراصل اسلامی حددود امن کی ضامن ہیں اور قابل رشک معاشرے کی تشکیل کے لیے ناگزیر اور حیات بخش ہیں، ان کا مقصود یہ نہیں کہ ظالم کو تکلیف پہنچائی جائے، بلکہ ان کی غرض و غایتیہ ہے کہ معاشرے کو پر سکون اور باامن بنایا جائے اور ایک شخص کو سزا دے کر سب افراد کو سمجھا دیا جائے کہ خبردار کوئی دوسرے کی عزت و عظمت، مال و دولت اور جان کو متأثر نہ کرے، وگرنہ اس کا بھییہی حشر ہو گا، اس طرح قصاص اور حدود کا نفاذ امن و سلامتی کا پیغام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6628
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15384»