الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ الْحَثِ عَلَى إِقَامَةِ الْحَدِ وَالنَّهْي عَنِ الشَّفَاعَةِ فِيهِ إِذَا بَلَغَ الْإِمَامَ باب: حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی¤کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا رَاقِدٌ إِذْ جَاءَ السَّارِقُ فَأَخَذَ ثَوْبِي مِنْ تَحْتِ رَأْسِي فَأَدْرَكْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا سَرَقَ ثَوْبِي فَأَمَرَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ هَذَا أَرَدْتُ هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ قَالَ فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا، چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑا چرا لیا، میں نے اسے پکڑ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اور کہا: اس نے میرا کپڑا چوری کر لیا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ یہ تو نہیں تھا، میں یہ کپڑا اس پر صدقہ کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لانے سے پہلے اس طرح کیوں نہیں کیا۔