حدیث نمبر: 6627
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا رَاقِدٌ إِذْ جَاءَ السَّارِقُ فَأَخَذَ ثَوْبِي مِنْ تَحْتِ رَأْسِي فَأَدْرَكْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا سَرَقَ ثَوْبِي فَأَمَرَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطَعَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ هَذَا أَرَدْتُ هُوَ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ قَالَ فَهَلَّا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں سویا ہوا تھا، چور آیا اور اس نے میرے سر کے نیچے سے کپڑا چرا لیا، میں نے اسے پکڑ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اور کہا: اس نے میرا کپڑا چوری کر لیا ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چور کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ارادہ یہ تو نہیں تھا، میں یہ کپڑا اس پر صدقہ کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لانے سے پہلے اس طرح کیوں نہیں کیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / مسائل الحدود / حدیث: 6627
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح بطرقه وشواھده۔ أخرجه ابوداود: 4394، والنسائي: 8/ 68 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28189»