الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ الْحَثِ عَلَى إِقَامَةِ الْحَدِ وَالنَّهْي عَنِ الشَّفَاعَةِ فِيهِ إِذَا بَلَغَ الْإِمَامَ باب: حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی¤کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6626
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كُنَّا نَرَى أَنْ يَبْلُغَ مِنْهُ هَذَا قَالَ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُهَا ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ لَا أَدْرِي كَيْفَ هُوَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، لوگوں نے کہا: ہمیں معلوم نہ تھا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی اس مقام پر ہوتی تو میں ان کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ سفیان بن عیینہ کہتے ہیں: مجھے چرائی گئی چیز کی کیفیت معلوم نہیں ہو سکی۔