الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ الْحَثِ عَلَى إِقَامَةِ الْحَدِ وَالنَّهْي عَنِ الشَّفَاعَةِ فِيهِ إِذَا بَلَغَ الْإِمَامَ باب: حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی¤کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6625
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَعَاذَتْ بِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حِبِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا فَقَطَعَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی اور سفارش کیلئے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی پناہ حاصل کی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محبوب تھے، پھر اس خاتون کو لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کاہاتھ بھی کاٹ دیتا۔ پھر مخزومی خاتون کا ہاتھ کاٹ دیا۔