الفتح الربانی
مسائل الحدود— حدود کے مسائل
بَابُ الْحَثِ عَلَى إِقَامَةِ الْحَدِ وَالنَّهْي عَنِ الشَّفَاعَةِ فِيهِ إِذَا بَلَغَ الْإِمَامَ باب: حد قائم کرنے کی ترغیب اور جب مقدمہ حکمران تک پہنچ جائے تو اس کی معافی¤کے لیے سفارش کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6621
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدٌّ يُعْمَلُ وَفِي لَفْظٍ يُقَامُ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلَاثِينَ وَفِي لَفْظٍ أَوْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک حد جس کو زمین میں نافذ کر دیا جائے، وہ اہلِ زمین کے لئے تیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔ ایک روایت میں چالیس روز کی بارش کا ذکر ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالی نے مسلمانوںکی جانوں کی حفاظت کے لیے قتل کی حد، ان کے مالوں کی حفاظت کے لیے چوری کی حدّ اور ان کی عزتوں کی حفاظت کے لیے زنا اور تہمت کی حدّ کو مشروع قرار دیا ہے۔ بارش کے فوائد اپنی جگہ پر مسلّم ہیں، بلکہ نظام زندگی کے قیام کے لیے ضروری ہے، لیکن بارش جس رزق کا سبب بنے گی، اگر وہی چوروں اور ڈاکوؤں کے ہتھے لگتا رہے تو سب کچھ رائیگاں ہوتا رہے گا۔ اگر ایک دفعہ خاندان کی عزت لٹ جائے تو مال ودولت کی ریل پیل کے باوجود نظریں جھکا کر اور گردنیں خم زدہ کر کے زندگیاں گزارنی پڑتی ہیں، اگر کسی قبیلے کا ایک فرد قتل کر دیا جائے تو جہاں صدیوں کے لیے قاتل و مقتول کے خاندانوں کا سکون غارت ہوتا ہے، وہاں سینکڑوں افرا د کو قتل و غارت گری کے بازار میں جھکنا پڑتا ہے۔ ان سب امور کا حل یہی ہے کہ اگر کسی کاجرم حدّ کے قابل ہے تو نرم دلی اور بزدلی کا مظاہرہ نہ کرتے ہوئے اسے نافذ کر دیا جائے۔