الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالِاسْتِثْنَارِ باب: کلی کرنے، ناک میں پانی چڑھانے اور اس کو جھاڑنے کا بیان
حدیث نمبر: 640
عَنْ أَبِي غَطْفَانَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اسْتَنْثِرُوهُ ثِنْتَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا)))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو غطفان رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، وہ وضو کر رہے تھے، انہوں نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا اور پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”دو دفعہ ناک کو جھاڑا کرو،“ (ایک روایت میں ہے: دو یا تین دفعہ اچھی طرح جھاڑا کرو)۔
وضاحت:
فوائد: … الْمَضْمَضَۃ (کلی کرنا): منہ میں پانی کو حرکت دینا اَلْاِسْتِنْشَاق: سانس کی مدد سے پانی کو ناک میں چڑھانا اَلْاِسْتِنْثَار: ناک میں چڑھائے ہوئے پانی کو سانس کے پریشر سے باہر پھینکنا کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ دورانِ وضو ناک کو سنت کے مطابق صاف نہیں کرتے۔