الفتح الربانی
أبواب الوضوء— وضو کے ابواب
بَابٌ فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالِاسْتِثْنَارِ باب: کلی کرنے، ناک میں پانی چڑھانے اور اس کو جھاڑنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَأَتَيْنَاهُ (يَعْنِي عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ فَدَعَا بِوَضُوءٍ فَأُتِيَ بِرَكْوَةٍ فِيهَا مَاءٌ وَطَسْتٍ، قَالَ: فَأَفْرَغَ الرَّكْوَةَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا وَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا بِكَفٍّ كَفٍّ (وَفِي رِوَايَةٍ: فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ) ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَمَسَحَ بِهَا رَأْسَهُ بِكَفَّيْهِ جَمِيعًا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: هَذَا وَضُوءُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاعْلَمُوهُعبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم نماز فجر ادا کر کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کے ہاں بیٹھ گئے، انہوں نے وضو کا پانی منگوایا، پس ایک برتن لایا گیا، جس میں پانی تھا اور چلمچی لائی گئی، پس انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی بہایا اور دونوں ہاتھوں کو تین دفعہ دھویا، پھر ایک ایک چلو کر کے تین تین کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا۔ ایک روایت میں ہے: ایک ہی چلو سے تین دفعہ کلی کی اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور بازوؤں کو تین تین دفعہ دھویا، پھر اپنا ہاتھ برتن میں رکھا اور دونوں ہتھیلیوں کے ساتھ ایک دفعہ سر کا مسح کیا، پھر تین تین بار اپنے پاؤں کو دھویا اور پھر کہا: ”یہ تمہارے نبی کا وضو ہے، اس کو سیکھ لو۔“