الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي جِنايَةِ البَهَائِمِ باب: حیوانوں کے نقصان کا بیان
حدیث نمبر: 6214
عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ دَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظُهَا بِالنَّهَارِ وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي حِفْظُهَا بِاللَّيْلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ حرام بن محیصہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی اونٹنی ایک باغ میں داخل ہوئی اور اس کو خراب کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ دن کے وقت (باغ وغیرہ جیسے) مال کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کریں اور رات کے وقت مویشیوں کے مالکوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں۔
وضاحت:
فوائد: … دن کو مویشیوں کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا یا چرایا جاتا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ خیال رکھنے کے باوجود مویشی کسی دوسرے کے کھیت اور باغ میں گھس جائیں، لہٰذا کھیت اور باغ کے مالک کو حکم دیا گیا ہے کہ دن کے وقت باغ کی حفاظت کرنا اس کی اپنی ذمہ داری ہے، لیکن رات کو باغ کے مالک کے لیے نا ممکن تھا کہ وہ اپنے کھیت کی حفاظت کرے، اس لیے مویشیوں کے مالکوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ رات کو اپنے جانوروں کو باندھ کر رکھیں، وگرنہ وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔