الفتح الربانی
مسائل الغصب— غصب کے مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي جِنايَةِ البَهَائِمِ باب: حیوانوں کے نقصان کا بیان
حدیث نمبر: 6213
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَتْ لَهُ نَاقَةٌ ضَارِيَةٌ فَدَخَلَتْ حَائِطًا فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ حِفْظَ الْحَوَائِطِ بِالنَّهَارِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ حِفْظَ الْمَاشِيَةِ بِاللَّيْلِ عَلَى أَهْلِهَا وَأَنَّ مَا أَصَابَتِ الْمَاشِيَةُ بِاللَّيْلِ فَهُوَ عَلَى أَهْلِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری ایک اونٹنی لوگوں کی کھیتیوں میں چرنے کی عادی تھی، ایک دن وہ ایک باغ میں گھس گئی اور اس کو خراب کیا، اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا کہ دن میں باغوں کی حفاظت ان کے مالکوں کے ذمے ہے اور رات کے وقت مویشیوں کی نگہداشت کرنا ان کے مالکوں کا کام ہے، اور جانوررات کو جو نقصان کریں گے، اس کے ذمہ داران کے مالک ہوں گے۔