الفتح الربانی
كتاب الإجارة— اجارہ کے مسائل
بابُ مَا جَاءَ فِي الْأُجْرَةِ عَلَى الْقُرَبِ باب: اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ ثَلَاثِينَ رَاكِبًا قَالَ فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا قَالَ فَلُدِغَ سَيِّدُهُمْ قَالَ فَأَتَوْنَا فَقَالُوا فِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا وَلَكِنْ لَا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا شَيْئًا قَالُوا فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلَاثِينَ شَاةً قَالَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهَا الْحَمْدُ لِلَّهِ سَبْعَ مَرَّاتٍ قَالَ فَبَرَأَ وَفِي لَفْظٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ قَالَ فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ قَالَ عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا قَالَ فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ أَصْحَابِي لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بِشَيْءٍ لَا نَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ اقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ كُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَكَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ قَالَ قُلْتُ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم تیس سوار مجاہدین کو ایک سریّے میں بھیجا، ہم عرب کی ایک قوم کے پاس اترے اوران سے میزبانی کا اپنا حق طلب کیا، لیکن انہوں نے انکار کردیا، ہوا یوں کہ ان کے ایک سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اورکہنے لگے کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی ڈسنے کا دم کر لیتا ہے، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں میں کرلیتا ہوں، لیکن میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم ہمیں کچھ عطا نہیں کروگے، انہوں نے کہا: ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس پر سورۂ فاتحہ پرھنی شروع کی اور سات مرتبہ پڑھی،اپنی تھوک جمع کرتا اور پھر اس پر تھوک دیتا، پس وہ تندرست ہوگیا اور انہوں نے تیس بکریاں دے دیں، جب ہم نے وہ بکریاں اپنے قبضے میں لے لیں، تو ہمیں شک ہو نے لگا (کہ پتہ نہیں یہ ہمارے لئے حلال بھی ہیں یا کہ نہیں)۔سو ہم ان پر کوئی کاروائی کرنے سے رک گئے، یہاں تک کہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کر لیں۔ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ بات بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تونے کیسے جانا کہ یہ دم ہے! ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی حصہ مقرر کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو خود بھی کھا اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلا، بھلا تجھے کیسے پتہ چلا تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: جی بس میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی تھی۔
اس مسئلہ میں مختلف احادیث مروی ہیں، بعض یہ ہیں: (۱) سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے ایک بستی کے سردار کوسورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اور اس کے عوض بکریوں کا ایک ریوڑ لیا۔ دوسرے صحابہ کرام نے ناپسند کیا اور اسے ڈانٹتے ہوئے کہا: اَخَذْتَ عَلٰی کِتَابِ اللّٰہِ اَجْرًا۔ … تو نے اللہ تعالی کی کتاب پراجرت لی۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو انھوں نے اس کی شکایت کی۔ جواباً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَحَقَّ مَا اَخَذْتُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا کِتَابُ اللّٰہِ۔)) ’’سب سے زیادہ جس چیز پر تم اجرت لینے کاحق رکھتے ہو وہ اللہ کی کتاب ہے۔‘‘ (صحیحبخاری: ۲۲۷۶)
یہ واقعہ تو خاص ہے، لیکن شارع g کے الفاظ عام ہیں، جو تعلیم القرآن کی اجرت کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔ فقہی قاعدہ ہے کہ ’’العبرۃ بعموم اللفظ لا بخصوص اللفظ‘‘ (لفظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے، نہ کہ سبب کے خاص ہونے کا)۔ حافظ ابن حجر ؒنےکہا: واستدلمنہللجمھور فی جواز الاجرۃ علی تعلیم القرآن۔ (فتح الباری) اس حدیث سے جمہور کے لیے استدلال کیا گیاجو تعلم القرآن پر اجرت کے جواز کے قائل ہیں۔
(۲) بیوی کا حق مہر خاوند پر فرض ہے، اس کی تفصیلیوں ہے کہ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کا نکاح قرآن مجید کی تعلیم کو حق مہر ٹھہرا کر کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ یہ تھے: (اِذْھَبْ فَقَدْ اَنْکَحْتُھَا بِمَا مَعَکَ مِنَ الْقُرْآنِ۔) (بخاری، مسلم) … ’’جا، میں نے اس قرآن کے بدلے جو تیرے پاس ہے تیرا اس عورت کے ساتھ نکاح کر دیا ہے۔
معلوم ہوا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قرآن مجید کی تعلیم کی اجرت دلوائی ہے۔ امام مالک نے کہا: یہ تعلیم قرآن پر اجرت ہی تھی، اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے۔ (فتح الباری)
لیکن درج ذ یل اور اس باب میں مذکورہ احادیث میں اجرت لینے والوں کے حق میں بڑی سخت وعید بیان کی گئی ہے: (۳) سیدنا ابودردائ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَخَذَ عَلٰی تَعْلِیْمِ الْقُرْآنِ قَوْسًا، قَلَّدَہُ اللّٰہُ قَوْسًا مِنْ نَارِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔)) (صحیحہ: ۲۵۶) … جس نے قرآن مجید کی تعلیم دے کر کمان لی، اللہ تعالی قیامت کے روز اس کے گلے میں آگ کی کمان ڈالے گا۔
حدیث نمبر (۶۱۴۳) میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی اس سے واضح روایت گزری، اسی قسم کی حدیث سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
مذکورہ بالا تین احادیث میں دو موضوعات بیان کئے گئے، جن میں تناقض او ر تعارض پایا جارہا ہے۔ ان میں جمع تطبیق کییہ صورت ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم کا اصل مقصود دین حنیف کی نشرواشاعت اور لوگوں کی اصلاح ہو اور معلم خود بھی قرآنی احکام پر عمل پیرا ہو، اگر ایسی صورت میں لو گ کفالت کر دیں تو اس کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں،یہی صورت پہلے والی احادیث کا مصداق ہے۔
وعید والی احادیث کے بارے میں مختلف اہل علم کے تین نظریے پائے جاتے ہیں: (ا) … جمہور اہل علم سیدنا ابی بن کعب (اور سیدنا ابودردائ) dکی احادیث کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا خلوص دیکھتے ہوئے ان کے لیے کمان لینا ناپسند کیا ہو۔
(ب) … اگر کسی آدمی کا قرآن کریم کی تعلیم سے اصل مقصود دنیا کی دولت اکٹھا کرنا ہو، لوگوں کی اصلاح سے اسے کوئی سروکار نہ ہو اور وہ خود قرآنی فرائض و واجبات کے وعظ سے اثر قبول نہ کرنے والا اور ان کی ادائیگی سے غافل ہو تو ایسے شخص کو وعید والی حدیث ِ مبارکہ کا مصداق بنایا جائے گا۔
(۳) ان احادیث کا مصداق وہ شخص ہے، جو غریب طلبہ کو قرآن مجید پڑھا کر ان سے اجرت وصول کرتاہے۔ واللہ اعلم بالصواب
اس کے بارے میں احناف کا نظریہیہ ہے کہ اجرت لینے اور دینے والے دونوں گنہگار ہیں اور اذان، حج، امامت اور تعلیم القرآن پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ (ملاحظہ ہورد المختار اور الھدایۃ) اگرچہ احناف عملی طور پر اس نظریے پر قائم نہ رہ سکے، لیکنیہ رائے اس قابل ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر توجہ کی جائے۔
اس باب میں جو رائے ہمیں اقرب الی الصواب نظر معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ امامت، خطابت، تعلیم القرآن اور تدریس احادیث جیسے پاکیزہ شعبوں سے متعلقہ لوگوں کا مقصد قطعی طور پر دنیوی مال و دولت کا حصول نہ ہو، بلکہ ان کی نیت اور ارادہ یہ ہو کہ وہ اسلامی تعلیمات کیتبلیغ کی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں،یہ شعبہ جات اس سے بالا تر ہیں کہ ان کی اجرت یا معاوضہ لیا جائے، خلیفۂ اول سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں امامت، خطابت، افتائ، قضائ، جہاد اور خلافت و امارت سے متعلقہ تمام امور سر انجام دیئے، سوال یہ ہے کہ کیا وہ ان خدمات کی اجرت میں بیت المال سے وظیفہ لیتے تھے؟ نہیں، قطعاً نہیں،خلیفۂ اول کییہ تمام خدمات اسلام کی تبلیغ اور سربلندی کے لیے تھیں، ہاں جب وہ امت ِ مسلمہ کے امور میں مصروف ہو جانے کی وجہ سے اپنے دنیوی معاملات پر توجہ نہ دے سکے تو انھوں نے اپنی کفالت کے لیے بیت المال سے معمولی مقدار میں وظیفہ لیا۔ یہاںیہ تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ دوسرے لوگوں کو اور خاص طور پر اداروں کے منتظمین کو چاہیے کہ وہ ان ائمہ، مبلغین اور مدرسین اور ان کے بیوی بچوں کی اس وجہ سے کفالت کریں کہ یہ لوگ دینِ حنیف کی خدمت میں مصروف ہیں اور ان شخصیتوں کے عزت و احترام کا خیال رکھیں، کیونکہ نیلے آسمان کے نیچے سب سے زیادہ معزز لوگ یہی ہیں۔ مساجد و مدارس سے متعلقہ ائمہ و مدرسین سے انتہائی درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ اجرت اور کفالت میں فرق کریں اور اپنے ارادے اور نیت میں پاکیزگی پیدا کریں، اپنے شعبے کی عظمت کو سمجھیں،یہ وہ عظیم لوگ ہیں کہ اللہ تعالی نے جن کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کر لیا ہے، ان کی جتنی کفالت کی جا رہی ہے، اس میں گزارا کرنے کی کوشش کریں، عبادات کی روٹین کو بہتر بنائیں، اپنے اندر ذکرِ الہی کا اتنا شغف پیدا کریں کہ اس سے ان کی بھوک اور پیاس میں کمی آ جائے، کسی کی خوشامد سے مکمل گریز کریں، ہر شخص پر اور بالخصوص انتظامیہ پر ناقدانہ تبصرہ کرنے سے بچیں، اس شعبہ سے متعلقہ پہلے گزر جانے والے لوگوں کے طرزِ حیات کا مطالعہ کریں، خاص طور پر اس چیز کا کہ اگر وہ لوگ خود کفیل تھے تو انھوں نے خدمت ِ اسلام کا فریضہ کیسے سرانجام دیا اور اگر وہ محتاج تھے توانھوں نے اپنی حاجت کو دور کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا اور اپنی حاجات و ضروریات اللہ تعالی کے دربار میں پیش کریں۔
صورتِ حال یہ ہے کہ ہم لوگ دنیا اور اہل دنیا سے متأثر ہو گئے ہیں، ہم نے بڑوں اور سیاسیوں کے قریب ہونے کو اپنی عظمت کی دلیل سمجھ لیا، باطن کی اصلاح کی بجائے ظاہر کو خوبصورت بنانے کی طرف توجہ دی، نیک مزاج کی بجائے جسم کی ظاہری ٹیپ ٹاپ کو زیادہ اہمیت دی اور اپنے آپ کو تنخواہ دار طبقے کا ایسا فرد سمجھ لیا کہ جس نے ہمیشہ تنخواہ میں اضافے کی بات کییا اس کے تھوڑا ہونے کا شکوہ کیا۔ اس میدان والوں کا سب سے اہم مسئلہ نفس کا غِنٰی ہے، جبکہ غنائے نفس دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے، دوسروں کے مال و دولت پر نگاہ رکھنا اور اس کا حریص رہنا، اس سے بندے کی حق گوئی بھی متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی، اگر کسی انسان کے دنیا کے وسائل و اسباب نہ ہوں، لیکن وہ نفس کے غِنٰی سے مالا مال ہو تو اس کے لیے پرلطف اور لذتوں سے بھری ہوئی زندگی کے لیےیہی نعمت کافی ہے، باتونی بن جانا اور ہر بندے کے سامنے اپنے مسائل بیان کرتے رہنا، اس سے لوگوں کے ہاں وقار تو کم ہو سکتا ہے، کبھی بھی کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
اگر اس پاک فیلڈ سے متعلقہ لوگ عبادات کی روٹین مرتّب کرنے کے بعد معاشرے سے متعلقہ چند قوانین کا پاس و لحاظ کریں، امامت و خطابت و تدریس کو تبلیغِ اسلام کا ذریعہ سمجھ کر پر خلوص انداز میں ان عہدوں کے تقاضے پورے کریں اور اپنے نصیب پر راضی ہو جائیں تو چند ایامکے اندر اندر ہی دلی سکون نصیب ہو گا اور حمیت و غیرت والی زندگی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا۔