الفتح الربانی
كتاب الإجارة— اجارہ کے مسائل
بابُ مَا جَاءَ فِي الْأُجْرَةِ عَلَى الْقُرَبِ باب: اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیے جانے والے نیک اعمال کی اجرت کا بیان
حدیث نمبر: 6145
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ نَقْرَأُ فِينَا الْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَالْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتُمْ فِي خَيْرٍ تَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُثَقِّفُونَهُ كَمَا يُثَقِّفُونَ الْقِدْحَ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک دفعہ ہم قرآن مجید پڑھ رہے تھے، ہم میں عرب اور عجم اور کالے اور سفید لوگ موجود تھے، اتنے میں اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے اور فرمایا: تم خیر و بھلائی پر ہو، اللہ تعالی کی کتاب پڑھ رہے ہو اور اللہ کے رسول تمہارے اندر موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ وہ ادائیگی کے لحاظ سے تو قرآن مجید کے الفاظ کو اس طرح سیدھا ادا کریں گے، جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ اس کے اجر کو جلدی حاصل کریں گے اور آخرت تک اس میں تاخیر نہیں کریں گے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ صحیح ہے: سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فِیکُمْ کِتَابُ اللَّہِ، یَتَعَلَّمُہُ الْأَسْوَدُ وَالْأَحْمَرُ وَالْأَبْیَضُ تَعَلَّمُوہُ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَ زَمَانٌ یَتَعَلَّمُہُ نَاسٌ وَلَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ وَیُقَوِّمُونَہُ کَمَا یُقَوَّمُ السَّہْمُ فَیَتَعَجَّلُونَ أَجْرَہُ وَلَا یَتَأَجَّلُونَہُ۔)) … ’’تمہارے اندر اللہ تعالی کی کتاب موجود ہے، کالے، سرخ اور سفید، غرضیکہ ہر کوئی اس کو سیکھ رہا ہے، تم اس کو اس زمانے کی آمد سے پہلے پہلے سیکھ لو کہ جس میں لوگ اس کی تعلیم تو حاصل کریں گے، لیکنیہ کتاب ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گی، وہ ادائیگی کے لحاظ اس کے الفاظ کو اس طرح سیدھا کریں گے، جیسے تیر کو سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ اس کے اجر کو جلدی طلب کریں گے اور آخرت تک اس میں تاخیر نہیں کریں گے۔‘‘ (ابوداود: ۸۳۱، مسند احمد: ۵/۳۳۸واللفظ لہ)