الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ النَّجْشِ، وَعَنْ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ إِلَّا فِي الْمُزَايَدَةِ باب: بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
حدیث نمبر: 5908
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص بھی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی دو آمیوں نے آپس میں بھائو مقررکرلیا ہے۔ اسے دوبارہ تیسرا آدمی توڑ پھوڑکا شکار نہ کرے کیونکہ اس تجارت کااتعقاد ہوچکا ہے۔ اس طرح نفرت، بغض اور فساد معاشرہ میں جنم لیتاہے۔