الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ النَّجْشِ، وَعَنْ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ إِلَّا فِي الْمُزَايَدَةِ باب: بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
حدیث نمبر: 5907
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلَّا عَلَى الْغَنَائِمِ وَالْمَوَارِيثِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میں نے سنا کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مُزَایَدہ کی تجارت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے، ماسوائے غنیمت اور وراثت کے مالوں کے۔
وضاحت:
فوائد: … ’’مُزَایَدہ‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی ایک چیز کا ریٹ بتائے، پھر مالک دوسرے لوگوں سے پوچھے کہ اس سے زیادہ کون دے گا، کوئی دوسرا آدمییہ بات سن کر اس پہلے سے زیادہ قیمت لگا دے اور مالک اس کو فروخت کر دے، یہ بات تیسرے چوتھے آدمی تک بھی جا سکتی ہے۔ یہ جائز صورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا سودا کیا ہے۔