الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ النَّجْشِ، وَعَنْ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ إِلَّا فِي الْمُزَايَدَةِ باب: بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
حدیث نمبر: 5902
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ أَوْ يَتَنَاجَشُواترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ شہری، دیہاتی کا سامان فروخت کرے یا لوگ بیع نجش کریں۔
وضاحت:
فوائد: … بیع نجش: ایسے شخص کا سودے کی قیمت میں اضافہ کرنا جو خود تو اسے خریدنا نہ چاہتا ہو، لیکن کسی اور کو اس میں پھنسانا چاہتا ہو۔ یہ محض ایک دھوکہ ہے۔ اس باب میں مذکورہ زیادہ تر قسمیں وضاحت کے ساتھ پہلے گزر چکی ہیں۔