حدیث نمبر: 5881
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ صِكَاكَ التُّجَّارِ خَرَجَتْ فَاسْتَأْذَنَ التُّجَّارُ مَرْوَانَ فِي بَيْعِهَا فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَذِنْتَ فِي بَيْعِ الرِّبَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْتَرَى الطَّعَامُ ثُمَّ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى قَالَ سُلَيْمَانُ فَرَأَيْتُ مَرْوَانَ بَعَثَ الْحَرَسَ فَجَعَلُوا يَنْتَزِعُونَ الصِّكَاكَ مِنْ أَيْدِي مَنْ لَا يَتَحَرَّجُ مِنْهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جن تاجروں کے پاس چیک تھے، وہ نکلے اور مروان سے ان چیکوں کو بیچنے کی اجازت لی، اس نے ان کو اجازت دے دی، اتنے میں سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس پہنچ گئے اور انھوں نے کہا: آپ نے تاجروں کو سود کی خرید و فروخت کی اجازت دے دی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس سے منع فرمایا ہے کہ اناج کو خرید کر مکمل قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے، یہ سن کر مروان نے اپنے پہرہ داروں کو بھیجا اور انھوں نے ان لوگوں کے ہاتھوں سے چیک چھیننا شروع کر دیئے، جن پر تنگی نہیں پڑ رہی تھی۔

وضاحت:
فوائد: … ’’صِکَاک‘‘ کی واحد ’’صَکّ‘‘ ہے، اس کے معانی کتاب کے ہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ امراء لوگوں کورزق اور عطیے دینے کے لیے کچھ رسیدیں تیار کرواتے تھے، لوگ ان کو حاصل کر کے جلد بازی کرتے ہوئے ان کو فروخت کرنا شروع کر دیتے تھے، پھر اس سے منع کر دیا گیا، کیونکہ اس میں قبضے میں لیے بغیر چیز کو فروخت کیا جا رہا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5881
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1528 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8347»