الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ تَلَقَّى الرُّكْبَانِ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادِ باب: خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ صِكَاكَ التُّجَّارِ خَرَجَتْ فَاسْتَأْذَنَ التُّجَّارُ مَرْوَانَ فِي بَيْعِهَا فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَذِنْتَ فِي بَيْعِ الرِّبَا وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْتَرَى الطَّعَامُ ثُمَّ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى قَالَ سُلَيْمَانُ فَرَأَيْتُ مَرْوَانَ بَعَثَ الْحَرَسَ فَجَعَلُوا يَنْتَزِعُونَ الصِّكَاكَ مِنْ أَيْدِي مَنْ لَا يَتَحَرَّجُ مِنْهُمْ۔ سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ جن تاجروں کے پاس چیک تھے، وہ نکلے اور مروان سے ان چیکوں کو بیچنے کی اجازت لی، اس نے ان کو اجازت دے دی، اتنے میں سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ مروان کے پاس پہنچ گئے اور انھوں نے کہا: آپ نے تاجروں کو سود کی خرید و فروخت کی اجازت دے دی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس سے منع فرمایا ہے کہ اناج کو خرید کر مکمل قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کیا جائے، یہ سن کر مروان نے اپنے پہرہ داروں کو بھیجا اور انھوں نے ان لوگوں کے ہاتھوں سے چیک چھیننا شروع کر دیئے، جن پر تنگی نہیں پڑ رہی تھی۔