الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ تَلَقَّى الرُّكْبَانِ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادِ باب: خریدار کو قبضے میں لینے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے فروخت کر دینے کی ممانعت کا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ بِزَيْتٍ فَسَاوَمْتُهُ فِيمَنْ سَاوَمَهُ مِنَ التُّجَّارِ حَتَّى ابْتَعْتُهُ مِنْهُ حَتَّى قَالَ فَقَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ فَرَبَّحَنِي فِيهِ حَتَّى أَرْضَانِي قَالَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ لِأَضْرِبَ عَلَيْهَا فَأَخَذَ رَجُلٌ بِذِرَاعِي مِنْ خَلْفِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ لَا تَبِعْهُ حَيْثُ ابْتَعْتَهُ حَتَّى تَحُوزَهُ إِلَى رَحْلِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ فَأَمْسَكْتُ يَدِي۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: شام کاایک آدمی تیل لے کرآیا، تاجر وں نے اس سے سود ے بازی شروع کردی، میں بھی ان میں شریک تھا اور میں نے اس سے خریدلیا، اسی مقام پر ایک آدمی خریدنے کے لئے سامنے آگیا، اس نے مجھے معقو ل منافع کی پیش کش کی اور اس نے مجھے سودا کرنے پر راضی کر لیا، پس میں نے اس کا ہاتھ پکڑا تاکہ (سودا پکا کرنے کے لیے) اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر ماروں، لیکن اتنے میں کسی نے پیچھے سے میرا بازو پکڑا، جب میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: جہاں کوئی چیز خریدو تو اس کو آگے فروخت کرنے سے پہلے اپنے گھر میں لے جاؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے، پس میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔