الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ نَهي الْمُشْتَرِي عَنْ بَيْعَ مَا اشْتَرَاهُ قَبْلَ قَبْضَةٍ¤ بَابُ الأمْرِ بِالْكَيْلِ وَالْوَزْنِ وَالنَّهْي عَنْ بَيْعِ الطَعَامِ حَتَّى يَجْرِيَ فِيهِ الصَّاعَانِ باب: ایک آدمی کا ایک خریدار کو کوئی چیز بیچنا، پھر وہی چیز کسی اور کو بیچ دینا اور ایسی چیز کی بیع کرنے کی ممانعت کہ بیچنے والا جس کا مالک نہ ہو اور وہ اس کو خرید کر اُس کے سپرد کر دے
حدیث نمبر: 5876
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو ولی جس عورت کا نکاح کر دیں تو وہ عورت پہلے کے نکاح کے مطابق ہو گی اور جو شخص ایک چیز دو آدمیوں کو فروخت کر دے تو وہ پہلے خریدار کی ہی ہو گی۔
وضاحت:
فوائد: … جب ایک آدمی ایک چیز ایک شخص کو فروخت کر دیتا ہے تو وہ اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے اور اس کا اختیار ختم ہو جاتا ہے، اس لیے جب وہ آدمی وہی چیز دوسرے آدمی کو فروخت کرے گا تو اس کا یہ سودا باطل اور بے اثر قرار پائے گا اور وہ چیز اسی شخص کی ہو گی، جس کو پہلے سودے میں فروخت کی گئی۔