حدیث نمبر: 5871
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَئِنْ تَرَكْتُمُ الْجِهَادَ وَأَخَذْتُمْ بِأَذْنَابِ الْبَقَرِ وَتَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ لَيُلْزِمَنَّكُمُ اللَّهُ مَذَلَّةً فِي رِقَابِكُمْ لَا تَنْفَكُّ عَنْكُمْ حَتَّى تَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَتَرْجِعُوا عَلَى مَا كُنْتُمْ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے جہاد چھوڑ دیا، گائیوں کی دمیں پکڑ لیں اور بیع عینہ کرنے لگ گئے تو اللہ تعالی تمہاری گردنوں میں ایسی ذلت ڈالے گا کہ وہ تم سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گی، جب تک تم اللہ تعالی کی طرف اور اس دین کی طرف رجوع نہیں کرو گے، جس کے تم پابند تھے۔

وضاحت:
فوائد: … بیع عینہیہ ہے کہ بیچنے والا ایک چیز ادھار پر فروخت کر کے خریدنے والے کے سپرد کر دے، پھر اسی سے وہی چیز کم قیمت نقد پر خرید لے۔ جیسے اویس نے ذیشان کو پانچ سو روپے ادھار کے عوض ایک بیگ فروخت کیا، پھر وہی بیگ اس سے چار سو روپے نقد کے عوض خرید لیا۔ اس بیع کا پس منظر یہ ہے کہ ذیشان کو کچھ رقم کی ضرورت تھی، جو وہ اویس سے براہ راست رقم کے طور پر نہیں لے سکتا تھا اور اویس سود کے بغیر دینے پر راضی نہیں تھا، لیکن وہ براہِ راست سود بھی نہیں لے سکتا تھا، اس لیے اس نے ’’بیع عِینہ‘‘ والا باطل حیلہ استعمال کیا اور چار سو کے عوض پانچ سو بٹور لیے۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ ذلت کا مسلّط ہونا صرف کھیتی باڑی کی بنا پر نہیں ہے، بلکہ دوسری احادیث میں مسلمانوں کو کھیتی باڑی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور اسے سب سے بہترین ذریعۂ معاش قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے جو آدمی کھیتی باڑی کا ہی ہو کر رہ جائے اور اس کی وجہ سے دنیا پرست بنتے ہوئے جہاد جیسی عظیم عبادتوں سے غفلت برتنے لگ جائے، تو وہ ذلیل ہو جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5871
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 3462، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5007»