الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الخَرْضِ وَبَيْعِ السِّينِ وَوَضْعِ الْجَوَائِحِ باب: پھلوں کا اندازہ لگانے، سالوں کی بیع اور آفتوں کو معاف کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 5870
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُبَاعَ النَّخْلُ السَّنَتَيْنِ وَالثَّلَاثَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو تین سالوں تک کھجوروں کا پھل بیچ دینے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … ایک ہی عقد میں ایک سال سے زیادہ مدت کے لیے کھجوروں کی ان کے درختوں پر بیع کرنا ’’بیع معاومہ‘‘ کہلاتا ہے، اوپر والی سالوں کی بیع سے یہی سودا مراد ہے، اس بیع میں دھوکہ ہے، کیونکہ کوئی علم نہیں کہ کتنا پھل لگے گا اور اس کی نوعیت کیا ہو گی، نیز وہ آخر تک برقرار بھی رہے گا یا نہیں۔