حدیث نمبر: 5869
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی سالوں کے لئے تجارت کرنے سے منع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جوائح کو معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَوْ بِعْتَ مِنْ اَخِیْکَ ثَمَرًا فَاَصَابَہٗجَائِحَۃٌ فَـلَا یَحِلُّ لَکَ اَنْ تَاْخُذَ مِنْہُ شَیْئًا، بِمْ تَأْخُذُ مِنْہُ شَیْئًا بِمَ تَأْخُذُ مَالَ اَخِیْکَ بِغَیْرِ حَقٍّ۔)) (صحیح مسلم) … ’’اگر تو اپنے بھائی کو پھل فروخت کرتا ہے اور اس پر کوئی آفت آ جاتی ہے تو تیرے لیے حلال نہیں ہے کہ تو اس میں سے کچھ قیمت بھی وصول کرے، بھلا تو کس چیز کے عوض میں اس سے کچھ لے گے، تو بغیر حق کے اپنے بھائی کا مال کیسے لے گا؟‘‘ جوائح سے مراد وہ آسمانی آفات ہیں جن کے باعث کل یا بعض پھل ضائع ہو جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں پھل اور فصل کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ خریدار کو قیمت واپس کر دے۔ یہ انتہائی اہم مسئلہ ہے، لیکن عام طور پر زمیندار لوگ اس کا کوئی لحاظ نہیں کرتے اور وہ ایسے نقصان کی صورت میں سارے کا سارا بوجھ خریدار پر ڈال دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5869
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرج شطره الاول مسلم: 2874، شطره الثاني: 1554 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14371»