حدیث نمبر: 5867
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تَزْهُوَ وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ وَعَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پختہ ہونے سے قبل پھل کو، کالا ہونے سے پہلے انگور کو اور سخت ہونے سے پہلے اناج کو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا تمام روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ درختوں اور پودوں پر لگا ہوا پھل پکنے سے پہلے فروخت نہیں کیا جا سکتا، ہر پھل کے پکنے کی علامت اس کے ساتھ خاص ہے۔ کوئی بھی پھل یا فصل پکنے سے پہلے مختلف ادوار اور کیفیات سے گزرتی ہیں، بیچ میں ایسی کیفیتیں بھی آ جاتی ہیں کہ ان میں معمولی بارش ہو جانا اور ہوا کا چل جانا بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، جبکہ بعض کیفیتوں میں بارش اور ہوا کا چلنا انتہائی ضروری ہوتا ہے، لیکن جب فصل پک کر تیار ہو جائے تو پھر عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ گرمییا سردی، معتدل مقدار کے ساتھ بارش اور ہواؤں کا چل پڑنا یا رک جانا، اس سے فصل متاثر نہیں ہوتی، ہاں شاذ و نادر ایسے بھی ہوتا ہے کہ فصل پک جانے کے باوجود کسی بڑی آفت کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ ہو جاتی ہے، ایسے میں کیا کرنا چاہیے، اس کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ بہرحال زمیندار لوگوں کو متنبہ رہنا چاہیے اور کوئی فصل پکنے سے پہلے فروخت نہیں کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5867
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلنم۔ أخرجه ابوداود: 3371، وابن ماجه: 2217، والترمذي: 1228 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13648»