الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُو صَلَاحِهَا باب: پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5860
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تَذْهَبَ الْعَاهَةُ فَقُلْتُ وَمَتَى ذَاكَ قَالَ حَتَّى تَطْلُعَ الثُّرَيَّاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ عثمان بن عبداللہ بن سراقہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پھلوں کی فروخت کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آفت کا ڈر ختم ہو جانے تک پھلوں کی بیع سے منع کیا، میں نے کہا: اور یہ کب ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: جب ثریا ستارہ ظاہر ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو داود کی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا طَلَعَ النَّجَمُ صَبَاحًا رُفِعَتِ الْعَاھَۃُ عَنْ کُلِّ بَلَدٍ۔)) … ’’جب ستارہ صبح کے وقت طلوع ہو جاتا ہے تو ہر شہر سے آفت اٹھ جاتی ہے۔‘‘ ثریا ایک ستارہ ہے، موسم گرما کے شروع میںیہ ستارہ صبح کے وقت طلوع ہوتا ہے، اس وقت حجاز میں سخت گرمی پڑتی ہے اور پھل پکنا شروع ہو جاتے ہیں، اس روایت کا اصل مقصود پھلوں کا پکنا ہے، ثریا ستارے کے طلوع کو پکنے کی علامت قرار دیا گیا ہے۔