الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُو صَلَاحِهَا باب: پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ان کو فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5857
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ الطَّائِيِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ وَحَتَّى يُوزَنَ قَالَ فَقُلْتُ مَا يُوزَنُ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ حَتَّى يُحْزَرَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو بختری طائی سے روایت ہے کہ اس نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کھجور کے پھل کو فروخت کرنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کاپھل اس وقت تک فروخت کرنے سے منع فرمایا، جب تک وہ کھانے اور وزن کے قابل نہ ہو جائے۔ ایک اور بندے نے کہا: وزن سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: اندازہ لگانا۔
وضاحت:
فوائد: … کھانا یا کھانے کے قابل ہونا، وزن کرنا، اندازہ کرنا، ان سب الفاظ سے مراد پھلوں کا پک کر بیع کے قابل ہو جاناہے۔