الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ الرُّحْصَةِ فِي الْعَرَایَا وَالنَّهْي عَنِ الْإِسْتِثْنَاءِ فِي البیع إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْلُومًا باب: بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
حدیث نمبر: 5853
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا فِي خَمْسَةِ أَوْسَقٍ أَوْ فِيمَا دُونَ خَمْسَةٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی ہے، اس میں پانچ وسق تک یا اس سے کم مقدار تک اندازے سے کے ساتھ پھل بیچا جا سکتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں بیع عرایا کے جواز کا بیان ہے، پچھلے باب میں بیان کیے گئے اصولوں کے مطابق تو یہ سودا بھی مزابنہ کی ایک صورت ہے، جس سے منع کیا گیا ہے، لیکن شریعت ِ مطہرہ نے لوگوں کی آسانی کے لیے کچھ شرطوں کے ساتھ بیع عرایاکی رخصت دی ہے، اس کی درج ذیل صورتیں ہیں: (۱) مالک، مسکین کو کھجوروں کے کچھ درختوں کا پھل ہبہ کر دیتا، لیکن جب وہ دیکھتا کہ مسکین انتظار نہیں کر سکتا ہے تو وہ اس مسکین سے ان درختوں پر لگی کھجوریں خشک کھجوروںکے عوض خرید لیتا۔
(۲) کچھ لوگوں کے پاس خشک کھجوریں موجود ہیں، لیکن وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتے ہیں، اس لیے وہ خشک کھجوروں کے عوض میں باغ کے مالکوں سے درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لیتے ہیں۔
(۳) کھجوروں کا مالک ایک دو کھجوروں کا پھل کسی شخص کو ہبہ کر دیتا ہے، پھر وہ اس شخص کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا یا اس سے تکلیف محسوس کرتا ہے، پس وہ اس شخص کو خشک کھجوریں دے کر اس سے ہبہ کی کھجوریں خرید لیتا ہے۔
بیع عرایا کی شرطیںیہ ہیں کہ اس بیع کا تعلق اہل خانہ کے کھانے سے ہو، نہ کہ آگے تجارت کرنے سے، نیز اس سودے میں کھجوروں کی مقدار پانچ وسق یا اس سے کم ہو، بہتر یہ ہے کہ اس سودے کی مقدار کو پانچ وسق سے کم رکھا جائے۔پانچ وسق کی مقدار پندرہ من اورتیس کلو گرام ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں، پس پانچ اوساق میں تین سو صاع ہوگئے اور ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے۔ اس باب میں بیع ثُنْیا کا ذکر نہیں کیا گیا، ویسے پچھلے باب میں اس بیع کی وضاحت کی جا چکی ہے۔
(۲) کچھ لوگوں کے پاس خشک کھجوریں موجود ہیں، لیکن وہ تازہ کھجوریں کھانا چاہتے ہیں، اس لیے وہ خشک کھجوروں کے عوض میں باغ کے مالکوں سے درختوں پر لگی ہوئی تازہ کھجوریں خرید لیتے ہیں۔
(۳) کھجوروں کا مالک ایک دو کھجوروں کا پھل کسی شخص کو ہبہ کر دیتا ہے، پھر وہ اس شخص کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا یا اس سے تکلیف محسوس کرتا ہے، پس وہ اس شخص کو خشک کھجوریں دے کر اس سے ہبہ کی کھجوریں خرید لیتا ہے۔
بیع عرایا کی شرطیںیہ ہیں کہ اس بیع کا تعلق اہل خانہ کے کھانے سے ہو، نہ کہ آگے تجارت کرنے سے، نیز اس سودے میں کھجوروں کی مقدار پانچ وسق یا اس سے کم ہو، بہتر یہ ہے کہ اس سودے کی مقدار کو پانچ وسق سے کم رکھا جائے۔پانچ وسق کی مقدار پندرہ من اورتیس کلو گرام ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں، پس پانچ اوساق میں تین سو صاع ہوگئے اور ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے۔ اس باب میں بیع ثُنْیا کا ذکر نہیں کیا گیا، ویسے پچھلے باب میں اس بیع کی وضاحت کی جا چکی ہے۔