الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ الرُّحْصَةِ فِي الْعَرَایَا وَالنَّهْي عَنِ الْإِسْتِثْنَاءِ فِي البیع إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْلُومًا باب: بیع عرایا کی اجازت اور اسثناء والی بیع کی ممانعت کابیان، الا یہ کہ اس کو معین کر دیا جائے
حدیث نمبر: 5850
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ قَالَ وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِهِمَا مِنَ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (درخت پر لگے) پھل کو خشک کھجوروں کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے، البتہ بیع عریہ میں اجازت دی ہے اور اس کی صورت یہ ہے کہ ایک آدمی اندازے سے خشک کھجوروں کے عوض کھجور کے ایک دو درخت خریدتا ہے، پھر وہ ان درختوں کی حفاظت کی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں رخصت دی ہے۔