الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَافَلَةِ وَعَنْ بَيْعِ كُلَّ رَطْب بِيَابِسِهِ باب: مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5846
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَالثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ، مخابرہ، معاومہ اور ثُنْیَا کی تجارتوں سے منع فرمایا ہے، البتہ بیع عرایا کی اجازت دی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث نمبر (۶۱۲۰)میں مخابرہ کی، حدیث نمبر (۵۸۶۹) میں معاومہ کی اور اگلے باب میں عرایا کی وضاحت کی جائے گی۔
بیع ثُنْیَا: … اس بیع میں استثناء کی صورت یہ ہے کہ آدمی کوئی چیز فروخت کرے اور اس کا کچھ حصہ مستثنی کر لے، اگر تو وہ مستثنییعنی علیحدہ کی ہوئی چیز معلوم ہو، تو وہ سودا بالاتفاق جائز ہو گا، مثلا وہ کہے: میں نے یہ تمام درخت تجھے فروخت کر دیئے، ما سوائے فلاں درخت کے، میں نے تجھے یہ تمام گھر فروخت کر دیئے، ما سواے فلاں دو گھروںکے۔ لیکن اگر وہ آدمی نامعلوم اور مجہول چیز کا استثنا کرتا ہے تو یہ بیع صحیح نہیں ہو گی، اس حدیث اسی مؤخر الذکر صورت سے منع کیا گیا ہے، کیونکہیہ بیع جہالت اور دھوکے پر مشتمل ہے۔
بیع ثُنْیَا: … اس بیع میں استثناء کی صورت یہ ہے کہ آدمی کوئی چیز فروخت کرے اور اس کا کچھ حصہ مستثنی کر لے، اگر تو وہ مستثنییعنی علیحدہ کی ہوئی چیز معلوم ہو، تو وہ سودا بالاتفاق جائز ہو گا، مثلا وہ کہے: میں نے یہ تمام درخت تجھے فروخت کر دیئے، ما سوائے فلاں درخت کے، میں نے تجھے یہ تمام گھر فروخت کر دیئے، ما سواے فلاں دو گھروںکے۔ لیکن اگر وہ آدمی نامعلوم اور مجہول چیز کا استثنا کرتا ہے تو یہ بیع صحیح نہیں ہو گی، اس حدیث اسی مؤخر الذکر صورت سے منع کیا گیا ہے، کیونکہیہ بیع جہالت اور دھوکے پر مشتمل ہے۔