الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَافَلَةِ وَعَنْ بَيْعِ كُلَّ رَطْب بِيَابِسِهِ باب: مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5845
عَنْ إِسْمَاعِيلَ الشَّيْبَانِيِّ بِعْتُ مَا فِي رُءُوسِ نَخْلِي بِمِائَةِ وَسْقٍ إِنْ زَادَ فَلَهُمْ وَإِنْ نَقَصَ فَلَهُمْ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اسماعیل شیبانی کہتے ہیں: میں نے کھجور کے درختوں پر لگا ہوا پھل ایک سو وسق کے عوض فروخت کر دیا اور کہا: اگر زیادہ ہوگیا تو بھی اُن کا اور اگر کم ہو گیا تو بھی اُن کا، پھر میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی تجارت سے منع کیا ہے، البتہ بیع عرایا کی رخصت دی ہے۔