حدیث نمبر: 5843
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ فَقَالَ أَلَيْسَ يَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ قَالُوا بَلَى فَكَرِهَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا تر کھجور کو خشک کھجور کے عوض فروخت کیا جا سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تر کھجور خشک ہو جاتی ہے تو کیا اس کا وزن کم نہیں ہوجاتا۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تجارت کو ناپسند کیا۔

وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا دونوں احادیث میںسودی کاروبار کی ایک قسم سے منع کیا گیا ہے، اس کو ربا الفضل کہتے ہیں، جس کی تفصیل آگے آئے گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5843
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1515»