الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَافَلَةِ وَعَنْ بَيْعِ كُلَّ رَطْب بِيَابِسِهِ باب: مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5842
عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ قَالَ سُئِلَ سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَيْعِ سُلْتٍ بِشَعِيرٍ أَوْ شَيْءٍ مِنْ هَذَا فَقَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَمْرٍ بِرُطَبٍ فَقَالَ تَنْقُصُ الرُّطَبَةُ إِذَا يَبِسَتْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَلَا إِذًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ ابو عیاش سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے خشک جو کی تر جو کے ساتھ بیع کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا،انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تر کھجور کی خشک کھجور کے ساتھ بیع کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: جب تر کھجور خشک ہوجاتی ہے، تواس کا وزن کم ہوجاتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ بیع جائز نہیں ہے۔