الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَافَلَةِ وَعَنْ بَيْعِ كُلَّ رَطْب بِيَابِسِهِ باب: مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5841
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ الثَّمْرُ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَالْعِنَبُ بِالزَّبِيبِ كَيْلًا وَالْحِنْطَةُ بِالزَّرْعِ كَيْلًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ اورانھیں سےمروی (دوسری سندمیں )ہے،وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے منع کر دیا ہے، اور مزانبہ یہ ہے کہ درخت پر لگا ہوا پھل ماپی ہوئی کھجوروں کے عوض اور درخت پر لگا ہوا انگور ماپے ہوئے خشک انگور کے عوض اور کھیتی کو ماپ شدہ گندم کے عوض فروخت کر دیا جائے۔