الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَافَلَةِ وَعَنْ بَيْعِ كُلَّ رَطْب بِيَابِسِهِ باب: مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَا تُبَايِعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَةَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَتْ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهَا بِزَبِيبٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَتْ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهَا بِكَيْلٍ مَعْلُومٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے اس کی خریدوفروخت نہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرما دیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ کی بھی ممانعت فرمائی ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کا (درختوں پر لگا ہوا)پھل اس طرح فروخت کرے کہ اگر وہ کھجوریں ہیں تو ان کو ماپی ہوئی کھجوروں کے عوض بیچ دے اور اگر وہ انگور ہیں تو ان کو ماپے ہوئے خشک انگور کے بدلے میں فروخت کر دے اور اگر وہ کھیتی ہے تو اس کو ماپ شدہ اناج کے بدلے میں بیچ دے۔