الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَافَلَةِ وَعَنْ بَيْعِ كُلَّ رَطْب بِيَابِسِهِ باب: مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5839
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَكَانَ عِكْرِمَةُ يَكْرَهُ بَيْعَ الْقَصِيلِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، عکرمہ رحمہ اللہ قصیل کی بیع ناپسند کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … قصیل کی بیع سے مراد یہ ہے کہ گندم، جو اور مکئی وغیرہ کو اس وقت بیچ دیا جائے، جب وہ اپنی کونپلوں میں ناپختہ ہو۔