الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَافَلَةِ وَعَنْ بَيْعِ كُلَّ رَطْب بِيَابِسِهِ باب: مزابنہ اور محاقلہ کی تجارت اور ہر تر کو خشک کے عوض فروخت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5837
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَهُوَ اشْتِرَاءُ الزَّرْعِ وَهُوَ فِي سُنْبُلِهِ بِالْحِنْطَةِ وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَهُوَ شِرَاءُ الثِّمَارِ بِالتَّمْرِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محاقلہ اور مزانبہ سے منع فرمایاہے، محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کی بالیوں میں لگا اناج گندم کے عوض فروخت کیا جائے اور مزانبہ یہ ہے کہ ایک درخت پر لگے ہوئے پھل کی کھجوروں کے عوض بیع کر دی جائے۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب میں محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان ہے، احادیث میں ہی دونوں کی تعریفات کر دی گئی ہیں، مزید وضاحت درج ذیل ہے: محاقلہ: … بالیوں میں کھڑی کھیتی کو غلے کے عوض فروخت کر دینا، جیسے گندم کے عوض گندم کا کھیت فروخت کر دینا۔
مزابنہ: … درختوں پر لگے ہوئے پھل کو اسی کی جنس سے اتارے ہوئے خشک پھل کے عوض فروخت کر دینا، کھجوروں کے عوض درخت پر لگی ہوئی کھجوریں فروخت کر دینا۔
بیع کی ان دونوں اقسام کی حرمت کا سبب یہ ہے کہ دونوں کی صحیح مقدار کا علم نہیں ہو سکتا، حالانکہ جب ایک ہی جنس کی آپس میں خرید و فروخت کی جا رہی ہو تو ان کا ہم وزن ہونا شرط ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلذَّھَبُ بِالذَّھَبِ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِیْرُ بِالشَّعِیْرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلاً بِمِثْلٍ، سَوَائً بِسَوَائٍ، یَدًا بِیَدٍ، فَاِذَا اخْتَلَفَ ھٰذِہِ الْاَجْنَاسُ فَبِیْعُوْا کَیْفَ شِئْتُمْ اِذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔)) (مسلم: ۱۵۸۷) … ’’(خرید و فروخت کے وقت) سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی، گندم کے بدلے گندم، جو کے عوض جو، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے بدلے نمک برابر برابر اور نقد و نقد ہونے چاہیے۔ ہاں جب جنسیں مختلف ہو جائیں تو جیسے چاہو، خریدو فروخت کر سکتے ہو، بشرطیکہ نقد و نقد ہوں۔‘‘
ذہن نشین رہے کہ جب کوئی کھیتییا باغ پک جائے تو نقدی کے عوض اس کو خریدنا درست ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں، رباالفضل اور ربا النسیئہ، درج بالا ممنوعہ صورتوں میں ربا الفضل کا قوی شبہ ہے، کیونکہ بالکل برابر مقدار کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، سود کی ان اقسام کی وضاحت آگے آئے گی، ان شاء اللہ تعالی
مزابنہ: … درختوں پر لگے ہوئے پھل کو اسی کی جنس سے اتارے ہوئے خشک پھل کے عوض فروخت کر دینا، کھجوروں کے عوض درخت پر لگی ہوئی کھجوریں فروخت کر دینا۔
بیع کی ان دونوں اقسام کی حرمت کا سبب یہ ہے کہ دونوں کی صحیح مقدار کا علم نہیں ہو سکتا، حالانکہ جب ایک ہی جنس کی آپس میں خرید و فروخت کی جا رہی ہو تو ان کا ہم وزن ہونا شرط ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اَلذَّھَبُ بِالذَّھَبِ، وَالْفِضَّۃُ بِالْفِضَّۃِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِیْرُ بِالشَّعِیْرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ، مِثْلاً بِمِثْلٍ، سَوَائً بِسَوَائٍ، یَدًا بِیَدٍ، فَاِذَا اخْتَلَفَ ھٰذِہِ الْاَجْنَاسُ فَبِیْعُوْا کَیْفَ شِئْتُمْ اِذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ۔)) (مسلم: ۱۵۸۷) … ’’(خرید و فروخت کے وقت) سونے کے عوض سونا، چاندی کے عوض چاندی، گندم کے بدلے گندم، جو کے عوض جو، کھجور کے عوض کھجور اور نمک کے بدلے نمک برابر برابر اور نقد و نقد ہونے چاہیے۔ ہاں جب جنسیں مختلف ہو جائیں تو جیسے چاہو، خریدو فروخت کر سکتے ہو، بشرطیکہ نقد و نقد ہوں۔‘‘
ذہن نشین رہے کہ جب کوئی کھیتییا باغ پک جائے تو نقدی کے عوض اس کو خریدنا درست ہے۔ سود کی دو قسمیں ہیں، رباالفضل اور ربا النسیئہ، درج بالا ممنوعہ صورتوں میں ربا الفضل کا قوی شبہ ہے، کیونکہ بالکل برابر مقدار کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، سود کی ان اقسام کی وضاحت آگے آئے گی، ان شاء اللہ تعالی