حدیث نمبر: 5836
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُلَامَسَةُ أَلْقِ إِلَى وَأَلْقِ إِلَيْكَ وَإِلْقَاءُ الْحَجَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے: رہا مسئلہ دو تجارتوں کا تو ایک ملامسہ ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کہتے ہیں: تو میری طرف ڈال دے اور میں تیری طرف ڈال دیتا ہوں اور دوسری تجارت پتھر کا ڈالنا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ان احادیث میں ملامسہ، منابذہ اور پتھر ڈالنے کی بیع کا ذکر ہے، مؤخر الذکر سے مراد کنکری کے ذریعے کیا جانے والا سودا ہے، جس کا ذکر پچھلے باب میں ہو چکا ہے۔ ملامسہ کی بنیاد چھونے پر اور منابذہ کی بنیاد پھینکنے پر ہے، دونوں دھوکے اور غرر پر مشتمل ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة / حدیث: 5836
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 5476، وأخرجه مقطعا مسلم: 1511، 1545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8936»