الفتح الربانی
كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة— خریدوفروخت، ذرائع آمدنی اور تجارت کے متعلقہ امور کا بیان
بَابُ النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ باب: ملامسہ اور منابذہ کی بیع سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5835
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ فَذَكَرَ الشَّطْرَ الْأَوَّلَ مِنَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَةُ وَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتُ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَلْبَسُهُ وَلَا يُقَلِّبُهُ إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے (یہ بھی) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو قسم کے لباسوں اور دو قسم کی تجارتوں سے منع فرمایا ہے، (لباسوں کا ذکر دوسرے مقام پر کیاگیا ہے) دو تجارتیں یہ ہیں، ایک منابذہ اور دوسری ملامسہ، منابذہ یہ ہے کہ آدمی کہے: جب میں یہ کپڑا تیری طرف پھینک دوں گا تو سودا پکا ہو جائے گا اور ملامسہ یہ ہے کہ آدمی کپڑے کو چھوتا ہے، نہ وہ اس کو پہن کر چیک کرتا ہے اور نہ الٹ پلٹ کر کے، بس جب چھوتا ہے تو سودا پکا ہو جاتا ہے۔